Urdu Ahmed Raza Khan
Surah An-Nazi'at ( Those who Pull Out ) - Aya count 46
وَٱلنَّٰزِعَٰتِ غَرْقًۭا ﴿١﴾
قسم ان کی کہ سختی سے جان کھینچیں
وَٱلنَّٰشِطَٰتِ نَشْطًۭا ﴿٢﴾
وَٱلسَّٰبِحَٰتِ سَبْحًۭا ﴿٣﴾
فَٱلسَّٰبِقَٰتِ سَبْقًۭا ﴿٤﴾
پھر آگے بڑھ کر جلد پہنچیں
فَٱلْمُدَبِّرَٰتِ أَمْرًۭا ﴿٥﴾
يَوْمَ تَرْجُفُ ٱلرَّاجِفَةُ ﴿٦﴾
کہ کافروں پر ضرور عذاب ہوگا جس دن تھر تھرائے گی تھرتھرانے والی
تَتْبَعُهَا ٱلرَّادِفَةُ ﴿٧﴾
اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی
قُلُوبٌۭ يَوْمَئِذٍۢ وَاجِفَةٌ ﴿٨﴾
کتنے دل اس دن دھڑکتے ہوں گے،
أَبْصَٰرُهَا خَٰشِعَةٌۭ ﴿٩﴾
آنکھ اوپر نہ اٹھا سکیں گے
يَقُولُونَ أَءِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِى ٱلْحَافِرَةِ ﴿١٠﴾
کافر کہتے ہیں کیا ہم پھر الٹے پاؤں پلٹیں گے
أَءِذَا كُنَّا عِظَٰمًۭا نَّخِرَةًۭ ﴿١١﴾
کیا ہم جب گلی ہڈیاں ہوجائیں گے
قَالُواْ تِلْكَ إِذًۭا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۭ ﴿١٢﴾
بولے یوں تو یہ پلٹنا تو نرا نقصان ہے
فَإِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٌۭ وَٰحِدَةٌۭ ﴿١٣﴾
فَإِذَا هُم بِٱلسَّاهِرَةِ ﴿١٤﴾
جبھی وہ کھلے میدان میں آپڑے ہوں گے
هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ مُوسَىٰٓ ﴿١٥﴾
کیا تمہیں موسیٰ کی خبر آئی
إِذْ نَادَىٰهُ رَبُّهُۥ بِٱلْوَادِ ٱلْمُقَدَّسِ طُوًى ﴿١٦﴾
جب اسے اس کے رب نے پاک جنگل طویٰ میں ندا فرمائی،
ٱذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ ﴿١٧﴾
کہ فرعون کے پاس جا اس نے سر اٹھایا
فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَىٰٓ أَن تَزَكَّىٰ ﴿١٨﴾
اس سے کہہ کیا تجھے رغبت اس طرف ہے کہ ستھرا ہو
وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخْشَىٰ ﴿١٩﴾
اور تجھے تیرے رب کی طرف راہ بتاؤں کہ تو ڈرے
فَأَرَىٰهُ ٱلْءَايَةَ ٱلْكُبْرَىٰ ﴿٢٠﴾
پھر موسیٰ نے اسے بہت بڑی نشانی دکھائی
فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ ﴿٢١﴾
اس پر اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی،
ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَىٰ ﴿٢٢﴾
پھر پیٹھ دی اپنی کوشش میں لگا
فَحَشَرَ فَنَادَىٰ ﴿٢٣﴾
تو لوگوں کو جمع کیا پھر پکارا،
فَقَالَ أَنَا۠ رَبُّكُمُ ٱلْأَعْلَىٰ ﴿٢٤﴾
پھر بولا میں تمہارا سب سے اونچا رب ہوں
فَأَخَذَهُ ٱللَّهُ نَكَالَ ٱلْءَاخِرَةِ وَٱلْأُولَىٰٓ ﴿٢٥﴾
تو اللہ نے اسے دنیا و آخرت دونوں کے عذاب میں پکڑا
إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَعِبْرَةًۭ لِّمَن يَخْشَىٰٓ ﴿٢٦﴾
بیشک اس میں سیکھ ملتا ہے اسے جو ڈرے
ءَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ ٱلسَّمَآءُ ۚ بَنَىٰهَا ﴿٢٧﴾
کیا تمہاری سمجھ کے مطابق تمہارا بنانا مشکل یا آسمان کا اللہ نے اسے بنایا،
رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّىٰهَا ﴿٢٨﴾
اس کی چھت اونچی کی پھر اسے ٹھیک کیا
وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَىٰهَا ﴿٢٩﴾
اس کی رات اندھیری کی اور اس کی روشنی چمکائی
وَٱلْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَىٰهَآ ﴿٣٠﴾
اور اس کے بعد زمین پھیلائی
أَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَمَرْعَىٰهَا ﴿٣١﴾
اس میں سے اس کا پانی اور چارہ نکا لا
وَٱلْجِبَالَ أَرْسَىٰهَا ﴿٣٢﴾
مَتَٰعًۭا لَّكُمْ وَلِأَنْعَٰمِكُمْ ﴿٣٣﴾
تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے فائدہ کو،
فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلْكُبْرَىٰ ﴿٣٤﴾
پھر جب آئے گی وہ عام مصیبت سب سے بڑی
يَوْمَ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَٰنُ مَا سَعَىٰ ﴿٣٥﴾
اس دن آدمی یاد کرے گا جو کوشش کی تھی
وَبُرِّزَتِ ٱلْجَحِيمُ لِمَن يَرَىٰ ﴿٣٦﴾
اور جہنم ہر دیکھنے والے پر ظاہر کی جائے گی
وَءَاثَرَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا ﴿٣٨﴾
اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی
فَإِنَّ ٱلْجَحِيمَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ ﴿٣٩﴾
تو بیشک جہنم ہی اس کا ٹھکانا ہے،
وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفْسَ عَنِ ٱلْهَوَىٰ ﴿٤٠﴾
اور وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا
فَإِنَّ ٱلْجَنَّةَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ ﴿٤١﴾
يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا ﴿٤٢﴾
تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں کہ وہ کب کے لیے ٹھہری ہوئی ہے،
فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَىٰهَآ ﴿٤٣﴾
تمہیں اس کے بیان سے کیا تعلق
إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَىٰهَآ ﴿٤٤﴾
تمہارے رب ہی تک اس کی انتہا ہے،
إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخْشَىٰهَا ﴿٤٥﴾
تم تو فقط اسے ڈرا نے والے ہو جو اس سے ڈرے،
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوٓاْ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَىٰهَا ﴿٤٦﴾
گویا جس دن وہ اسے دیکھیں گے دنیا میں نہ رہے تھے مگر ایک شام یا اس کے دن چڑھے،